Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children

 


عقيدہ ختم نبوت اور اسکا فلسفہ

اب رب العالميں کے اعجاز ربوبيت کا تقاضا ٹہرا کہ کوئي ايسا پيکر نبوت بھي منصہ شہود پر آئے جس ميں تمام تر حسن کائنات نبوت مجتمع ہو جو حسن الوہيت کا مظہر اتم اور تمام تر محاسن کائنات نبوت کا خلاصہ و مرقع ہو، نہ صرف مرقع محاسن نبوت ہوبلکہ مختلف حاملان نبوت کو جو مختلف فضيلتيں اور اوصاف و کمالات حاصل ہيں، اس پيکر دلربا ميں اپنے نقطہ کمال کو پہنچے ہوئے ہوں، چنانچہ جب مشيت ايزدي کو يہ منظور ہوا کہ حسن کائنات نبوت اپنے اتمام کو پہنچے اور اب پيکر مصطفي ميں ڈھل کر زمين پہ جائے تو جس رات کو اس پيکر محبوب نے آنا تھا اس رات سرشام ہي آسمان تک غير معمولي ہلچل مچ گئي تھي، قلب کائنات ميں قدرتي طور پر يہ بات آگئي تھي کہ آج رات معمولي اور عام سي رات نہيں ہے ايسے گويا انہيں الہام ہوگيا تھا کہ آج آخري نبي جلوہ افروز ہونے والے ہيں، اس لئے وہ معمول کي نيند ميں ڈوب جائيں، بلکہ خوشي اور مسرت کے ترانے گائيں اور آنے والي ذات کا مسرتوں کے ہجوم ميں اسقتبال کريں اور ان کے حضور عقيدت و محبت اور شادماني کے پھول پيش کريں۔
ساکنان عرش کي آمد و و رفعت ميں بھي اضافہ ہوگيا، وہ نواراني پروں کے ساتھ ہوائوں اور فضائوں ميں پرے باندھے کر، ادب و احترام سے کھڑے ہوگئے، حور ان بہشتي نے کاشانہ عاليہ نبوت کو گھيرے ميں لے لي اور خدمت کيلئے مستعد ہوگئيں، فرشتوں نے مشرق و مغرب ميں آمد شاہ اور عظمت نبوي کے پرچم لہرائے اور اہل زمين کے دلوں ميں لہام کرديا کہ ايک دوسے کو فرحت و انسباط کي سوغات تقسيم  کريں، مبارک بادي کا تبالہ کريں اور رحمتوں اور برکتوں والے آقا کي تشريف آوري کي دھوم مچاديں۔
ستاروں کے طلوع اور سہانے خوابوں کے ذريعہ اس اعلان کو عام کيا گيا۔
حضرت عبدلمطلب راوہي ہيں کہ
ميں نے ايک عجيب و غريب اور حيرت انگيز خواب ديکھا، اس وقت ميں حطيم کعبہ ميں تھا، ميں نے ديکھا کہ ميري پشت پر ايک بلند ترين درخت اگا ہے، جس نے آسمان کي چوٹي کو چھوليا ہے، اس کي شاخيں مشرق و مغرب ميں پھيل گئيں اور اس سے نور چھن چھن کر فضائوں کو منور کرنے لگا، انوار ايسے سوتے پھوٹے کہ سورج کي تاباني بھي اسکے آگے ماند پڑ گئي، ميں  نے ديکھا کہ قريش کے لوگ وہاں جمع ہوگئے، کچھ شوق و وار فتگي کے عالم ميں آگے بڑھے اور ان شاخوں کے ساتھ لٹک گئے، ليکن کچھ غصے سے بھپر گئے اور برافروختہ ہو کر اگے بڑھے، انکے ہاتھوں ميں بڑے بڑے کلہاڑے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ اس نوراني درخت کو کاٹ ڈاليں، اتنے ميں ايک بہت ہي خوبصورت، وجيہہ اور باوقار نوجوان نمودار ہوا اور درخت کے سامنے سينہ سپر ہوگيا، اس سے خوشبو کي لپٹيں آرہي تھيں، جي چاہتا تھا کہ اس انسان کو ديکھتا رہو، اس نے درخت کاٹنے کي کوشش کرنے والوں ميں سےکسي کي آنکھيں پھوڑ ديں اور کسي کي کمر توڑ دي، ميں گھبرا کر بيدار ہوگيا، ايک کاہن نے تربير سنائي کہ تمہاري نسل میں ايک شخص ايسا پيدا ہوگا جس کے جاہ و جلال سے اور عظمت و کمال سے دھوم مچ جائے گي۔
( سيرت نبوي زيني دحلان ٣٢ )
عبدالمطلب اسي صبح نور کے تڑکے، اسي کعبہ ميں رونق افروز تھے، کہ يکدم انقلاب آگيا، بتوں کي خدائي درہم برہم ہوگئي، وہ اوندھے منہ گر پڑے جيسے نظر نہ آنے والے ہاتھوں نے انہيں زمين پر پٹخ ديا ہو، ديوار کعبہ سے ايک دلکش آواز گونجي۔
ولد المصطفي المختار الذي تھلک بيدہ  الکفار۔(دخلان٤١)
مختار و برگزيدہ نبي پيدا ہوگئے ہيں، کفار ان کے ہاتھوں شکست کھاجائيں گے۔
الغرض رب الجلال کا حسن بکھرا تو کائنات معرض وجود ميں آگئي اور سمٹا تو وجود مصطفوي سے معنون ہوگيا، سو نبوت و رسالت کا وہ سلسلہ جو حضرت آدم عليہ سلام سے چلا اور محاسن نبوت کا امين بنکر اپنے کمال کي جانب گامزن رہا، اس ميں ہر ہر پيکر نبوت اور جو جو شان مظہريت اور کمال حسن نصيب ہوا وہ حقيقت مصطفوي کا پر تو اور اسي سفر حسن ربوبيت کا ايک مرحلہ قرار پايا۔
اب ہم ذرا اختصار کے ساتھ اس امر کا جائزہ ليتے ہيں کہ کس طرح کائنات نبوت کا حسن و وجود مصطفوي ميں اپنے اتمام و کمال کو پہنچا۔

 اگلا صفحہ>>>

2

<<< پچھلا صفحہ 


 







New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu