Download Urdu Font ipaki.com
News Islam Pakwan Urdu Adab Women Children
Bridal  Collection at IndusMart.com

 


عقيدہ ختم نبوت اور اسکا فلسفہ

شان ربوبيت کي جلوہ گري۔
حق تعالي تمام کائنات کا رب ہے اور اس کا نظام ربوبيت کے ہر ہر وجود کو اپني تنہائي سادہ اور پست ترين حالت سےاٹھا کر درجہ بدرجہ منتہائے کمال تک پہنچارہا ہے، اس نے چاہا کہ ميں پہچانا جائوں چنابچہ اس نے امر کن سے کائنات کي وسعتوں کو تحليق کرديا جس ميں مختلف عموامل پيدا کيئے، آسمان تخليق کئيے، انکو بلندياں عطا کيں، طبقات بنائے، انہيں وسعتيں بخشيں، سمندر بنائے، انہيں تموج عطا کيا، پہاڑ بنائے، انہيں جلال سے نوازا غرضيکہ شجر و حجر، جمادات، نباتات اور موجودات و حيوانات کو وجود عطا کيا اور ہر شمے ميں اپني صفات و کمالات اور حسن کےکسي نہ کسي پہلو کا عکس اتار ديا۔
ارشاد ہے۔
سنريھم ايتنافي الافاق(حم السجدہ٥٣،٤١)
ہم بہت جلد تمہيں آفاق ميں اپني قدرت کي نشانيا دکھادے گے۔
سو رب العزت نے کائنات پست وبالا ميں ہر سو اپنے حسن کے جلوے بکھير دئے اور کائنات کے ہر ذرے کو اپنے حسن لازوال کا منظر بنا ديا، ہر سو اس کي صفات مطلقہ کي جلوہ گري ہوئي اور ہر جانب اس کے جمال آرائے جلوہ منتشر ہوگئے، اب اس ذات بے ہمتانے اور ہر جانب اس کے جمال جہاں آرائے جلوہ منتشر ہوگئے، اب اس ذات بے ہستمانے نے چاہا کہ کوئي ايسا پيکر بھي تخليق کيا جائے جس ميں تمام جلوے يکجا ہوں، کسي ايسي ہستي کو خلعت وجود عطا کي جائے جس ميں حسن الوہيت کے تمام جلوے مجتمع ہوں، چنانچہ اس ارادہ الوہيت کي تکميل ميں کارخانہ کائنات ميں اسنان کو خلعت وجود عطا ہوئي۔
ارشاد ہوتا ہے۔
لقد خلقنا الانسان في احسن تقويم۔
ہم نے انسان کو بہترين شکل و صورت ميں پيدا کيا۔
گويا انسان کي تخليق اس انداز سے عمل ميں آئي کہ يہ تمام عوامل کائنات کے جملہ مظاہرہ حسن کا خلاصہ ٹہرا، انسان کے اندر ملائکہ کي حقيقت بھي رکھ دي گئي اور حيوانات کي حقيقت بھي، اسے جمادات کي حقيقت بھي عطا کردي گئي اور نباتات کي حقيقت بھي، انسان کو رب العزت نے اپنے قہر و غضب کي مظہريت بھي عطا کي اور رافت و محبت کي آئينہ داري بھي، غرضيکہ اسے عالم پست و بالا کے جملہ و محامد و محامدسن کا مرقع بناکر منصہ شہوہ پر جلوہ گر کيا گيا۔
پيکر نبوت۔۔۔۔۔۔۔شان ربوبيت کا مظہراتم۔
ہبتقائے اعجاز رببيت کے جملہ مظاہرہ جب حضرت انسان ميں مجتمع ہوچکے تو مشيت ايزدي نے چاہا کہ اب عالم انفس ميں کمي ايسے پيکر کو خلعت وجود عطا کي جائے جس میں تمام اوصاف و کمالات انسانيت اور حسن الوہيت کے تمام جلوے اپنے پورے نکھار اور کامل شان مظہريت کے ساتھ جلوہ گر ہوں چنانچہ اس ارادہ ايزدي کي تکميل ميں خلاق عالم نے پيکر نبوت کو وجود بخشا، حسن الوہيت کے تمام جلوے جلوے جو پيکر  انسانيت ميں موجود تھے، حسن ربوبيت کي تمام جلوہ آرائياں جو مختلف طبقات انساني ميں منتشر تھيں، وجود نبوت ميں مجتمع کر دي گئيں اور اسي طرح مظاہر حسن الوہيت کي امين بن کر کائنات نبوت معرض وجود ميں اگئي اور حسن و جمال نبوت کي مختلف شانيں حاملان نبوت ميں درجہ با درجہ تقسيم ہونے لگيں، ہر ہر پيکر نبوت جداگانہ شان مظہريت کے ساتھ حسن الوہيت کي جلوہ گاہ بنا اور کائنات نبوت جملہ مظاہرہ ربوبيت کي امين پھر تلک الرسول فضلنا بعضھم علي بعض کے مصداق پيکران نبوت کو ايک دوسرے پر کسي خاص تجلي حسن کے حوالے سے فضيات عطا ہوئي، کوئي کسي کمال ميں يکتا ہوا تو کوئي کسي اعتبار سے الغرض کائنات نبوت جملہ محاسن ربوبيت اور کمالات الوہيت کي جلوہ گاہ بن گئي۔

 اگلا صفحہ>>>

1

<<< پچھلا صفحہ 


 







New Page 1 iPaki News Jobs at  Ipaki.com iPaki Classifieds iPaki Music iPaki Forum iPaki Yellow Pages Ecards iPaki Urdu